فضیلت قیام رمضان، علامہ نووی فرماتے ہیں کہ فضیلت قیام رمضان سے مراد تراویح ہے اور اس بات پر اُمت کا اجماع ہے کہ تراویح پڑھنا مستحب ہے البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ تراویح الگ الگ پڑھی جائے یا جماعت کے ساتھ ، امام شافعی اور ان کے جمہور اصحاب ، امام ابو حنیفہ امام احمد بن حنبل اور بعض مالکیہ کے نزدیک تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے کیونکہ حضرت عمر بن خطاب اور جماعت صحابہ نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھی اور آج تک تمام مسلمانوں کا اس پر عمل ہے اور یہ نماز عید کی طرح شعائر مسلمین سے ہو گئی ۔فضیلت قیام رمضان،امام مالک امام ابو یوسف اور بعض شوافع کہتے ہیں کہ تراویح بغیر جماعت کے الگ الگ پڑھنا افضل ہے ۔کیونکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : افضل فرائض کے علاوہ مرد کی سب سے افضل نماز اس کی گھر میں نماز ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تراویح جو جماعت کے ساتھ پڑھائی اس سے نوافل کی جماعت کا جواز معلوم ہوا اور صحابہ کرام کے اشتیاق کے باوجود آپ چوتھے دن تراویح پڑھانے تشریف نہیں لائے ۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں اوٓلاً یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی بہ نسبت ہم بعد ے مسلمانوں کا زیادہ خیال رکھا ہے ، کیونکہ صحابہ کرام تو زیادہ عبادت اور سب سے زیادہ خوشی کا باع تھی اور ظاہر ہے کہ فرض کا اجر نفل سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اگر آپ اسی طرح نف پڑھاتے رہتے اور تراویح فرض ہو جاتی تو یہ صحابہ کرام کا عین مقصود اور دلی تمنا تھی لیکن آپ کی نظر ہم لوگوں کی طرف تھی کہ اگر تراویح فرض ہو گئی اور یہ لوگ نہ پڑھ سکے تو ان کو فرض کے ترک کا گناہ ہو گا آپ نے ہمیں گناہ سے بچانے کے لیے صحابہ کے اشتیاق اور ان کی آرزو کا خیال نہ کیا ، اللہ اللہ ! سرکار کو ہمارا کتنا خیال تھا سرکار ہاری کس قدر رعایت کرتے تھے !سوچئیے ہم سرکار کا کس قدر خیال رکھتے ہیں اور آپ کے احکام کی کتنی رعایت کرتے ہیں ۔
عبادت سے گناہوں کی بخشش
روزہ ، تراویح اور لیلۃ القدر کے قیام پر آپ نے جو گناہوں کی معافی مراد ہےیا کبائر میں تخفیف ، کیونکہ کبائر کی مغفرت یا توبہ سے ہوتی ہے یا شفاعت سے یا اللہ تعالیٰ کے فضل محض سے
رکعات تراویح میں مذاہب
امام ابو حنیفہ ، امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہے اور امام مالک کے نزدیک چھتیس رکعت ہے ۔ علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ ابو عبد اللہ (امام احمد بن حنبل ) رحمہ اللہ کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہے اور امام ثوری ، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کا بھی یہی نظریہ ہے البتہ امام مالک کے نزدیک چھتیس رکعت ہے ۔ امام مالک نے اہل مدینہ کی اتباع کی ہے کیونکہ صالح مولی التوامۃ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ اکتالیس رکعات قیام کرتے تھے جس یں پانچ رکعت وتر کی تھیں۔ علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں: ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب کی اقتداء میں بیس رکعت پر جمع کیا ۔ حسن نے روایت یا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب کی اقتداء میں تراویح پڑھنے کا حکم دیا ۔فیضلت قیام رمضان، حضرت ابی بن کعب بیس روز تراویح پڑھاتے رہے اور رمضان کے نصف اخیر یں قنوت پڑھتے تھے اور آخری دس دِنوں میں اپنے گھر تروایح پڑھتے تھے اور لوگ کہتے تھے کہ حضرت ابی چلے گئے ۔ اس روایت کو ابوداود اور سائب بن یزید نے روایت کیا ہے اور امام مالک نے یزیدین رومان سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ رمضان میں تیئس (23) رکعات (بشمول وتر) پڑھتے تھے۔ اور حضرت علی ے مروی ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو رمضان میں بیش رکعات پڑھانے کا حکم دیا لہٰذا بیس رکعت تراویح بمنزلہ اجماع ہے ۔ اور صالح نے جو اکتالیس رکعات تروایح کی روایت ذکر کی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ صالح ضعیف ہے ، پھر ہمیں علم نہیں کہ اکتالیس رکعت تراویح کی کس نے خبر دی ہے ، ہو سکتا ہے کہ صالح نے کچھ لوگوں کو اکتالیس رکعت پڑھتے دیکھا ہو لیکن یہ حجت نہیں ہے پھر اگر مان لیا جائے کہ اہل مدینہ اکتالیس رکعت پڑھتے تھے تب بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فعل جس کو ان کے زمانہ کے تام صحابہ کی تائید حاصل ہے ، زیادہ اتباع کے لائق ہے ، بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اہل مدینہ چھتیس رکعت اس یے پڑھتے تھے تاکہ اہل مکہ کی موفقت کریں کیونکہ اہل مکہ ہر ترویح ( چار رکعت) کے بعد سات طواف کرتے تھے تو اہل مدیہ نے سات طواف کے قائم مقام چار رکعت پڑھنی شروع کیں۔مزید مطالعہ کے لیے شرح صحیح مسلم ،جلد 2 صفحہ نمبر 495 ،کتاب صلوۃ المسافرین میں پڑھ سکتے ہیں۔فضیلت قیام رمضان بہت اہم موضوع ہے اس کو ضرور مطالعہ کریں۔ مزید لوگوں کو آگے بھی شئیر کریں تا کہ لوگوں کو علم آ سکے۔